• Intrinsic Knowledge of One's Inner Self
    Seeker of Allah
    Faqr
  • Zikr and Tasawur Ism-e-Allah Zaat and Ism-e-Mohammad
    img
    img
  • Assembly of Holy Prophet
    Glorious Vision of Allah
    he Perfectly Accomplished Man
  • Oath of Allegiance

بانی تحریک دعوتِ فقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کا مل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس 19۔ اگست 1959ء (14۔ صفر 1379ھ) بروز بدھ بخشن خان تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا خاندان 1947ء میں ہندوستان کے ضلع جالندھر تحصیل نکودر کے گاؤں مدھاں سے ہجرت کر کے پاکستان میں فیصل آباد کے علاقے شاہ کوٹ میں آباد ہوا جہاں سے بعد ازاں آپ کے والد بہاولنگر میں آکر آباد ہو گئے۔

بچپن اور تعلیم

Founder of Tehreek Dawat e Faqr Khadim Sultan-ul-Faqr Sixth Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman Madzillah-ul-Aqdus Sultan Bahoo Sultan Bahu

چونکہ آپ مدظلہ الاقدس ازل سے ہی خزانہ فقر کے لیے منتخب شدہ تھے اس لیے نورِ حق بچپن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے پر نمایا ں تھا۔ جو بھی آپ کو دیکھتا بے اختیار ہو کر دیکھتا رہ جاتا۔ ایک بار ایک فقیر نے آپ مدظلہ الاقدس کی روشن پیشانی دیکھ کر آپ کی والدہ سے کہا کہ آپ کا یہ بیٹا بڑا سعید ہے۔ اللہ پاک نے اپنی ایک خاص تقدیر کو اس کی پیشانی پر رقم کر دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی باطنی زیرِ نگرانی اس کی خاص طرز پر تربیت کی جائے گی اور اسے زندگی کے تمام مراحل سے گزارا جائے گا''۔ ایک اور موقع پر کہنے لگا ''تیرا یہ بیٹا سردار ہے جس جگہ رہے گا سرداری کرے گا''۔ چونکہ آپ مدظلہ الاقدس کو مستقبل میں خزانۂ فقر کو سنبھالنے اور طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کی ایک عظیم ذمہ داری ادا کرنی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے آغازِ حیات سے ہی آزمائشوں اور مشکلات کی کڑی بھٹی میں ڈال کر آپ کی تربیت کی۔

آپ مدظلہ الاقدس اپنے والدین کے بڑے بیٹے ہیں۔ چار سال کی عمر میں آپ کی دینی و دنیاوی تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپ مدظلہ الاقدس کے والد معاشی طور پر مستحکم حیثیت کے مالک نہ تھے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ مدظلہ الاقدس بہت ذہین اور تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق رکھتے تھے، آپ کو بار بار اپنے گھریلو معاشی بوجھ کو والد محترم کے ساتھ بانٹنے کے لیے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑتا۔ اپنے والد کا سہارا بننے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے کمسنی کی معصوم عمر سے ہی محنت مشقت شروع کر دی لیکن جب بھی حالات کچھ سازگار ہوتے آپ مدظلہ الاقدس اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیتے۔ آپ کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے پانچویں جماعت سے ہی روزنامہ مشرق، مساوات، امروز وغیرہ میں بچوں کے صفحات پر اخلاقی نوعیت کے مضامین لکھنا شروع کر دئیے۔

آپ مدظلہ الاقدس کو بچپن سے ہی مذہب سے خصوصی لگاؤ تھا اور آپ کا فارغ وقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے متعلق غوروفکر کرنے اور دین سے متعلق کتب پڑھنے میں گزرتا۔ انہی مشاغل کو جاری رکھتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے 1978ء میں ملتان بورڈ سے میٹرک اور 1983ء میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ گریجوایشن کے دوران آپ مدظلہ الاقدس کا معمول تھا کہ آپ دن کو تعلیم حاصل کرتے اور رات کو پٹرول پمپ پر نوکری کرتے۔

عملی زندگی

1984ء میں آپ مدظلہ الاقدس نے سرکاری ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ جلد ہی آپ مدظلہ الاقدس لاہور منتقل ہو گئے اور 1987ء میں شادی کے بعد ایک خوشحال زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ آپ کی معاشی حالت بہتر سے بہتر ہونے لگی۔ زندگی کے اس دور میں آپ مدظلہ الاقدس کے دل کی ہر خواہش پوری ہونے لگی۔ آپ نے ملازمت کے علاوہ لوگوں کے ساتھ مل کر شراکت میں جو بھی کاروبار کیے ان میں توقع سے بڑھ کر منافع ملا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ دنیا عطا کی جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کا دل دنیا سے سیر بھی ہو جائے اور آپ دنیا کے مال کی حقیقت بھی سمجھ جائیں۔ جلد ہی آپ کا من دنیا کی دولت سے بھر گیا اور دل میں اللہ کا قرب پانے کی چاہت شدت سے سر اُٹھانے لگی۔ تمام دنیاوی آسائشوں کے باوجود آپ کا دل بے چین تھا۔ کچھ تھا جس کی طلب نے آپ کو بے قرار کر رکھا تھا۔ اس طلب کی جستجو میں آپ مدظلہ الاقدس دن رات عبادات میں مصروف رہنے لگے۔ صرف عبادات ہی میں آپ کو سکون حاصل ہوتا۔

تلاشِ حق

صرف سینتیس سال کی عمر میں سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دنیا او رمعاملاتِ دنیا سے بے زار ہو کر عشقِ حقیقی میں گم ہو چکے تھے۔ روح کی بے چینی اور بے سکونی نے باطن میں ہلچل مچا رکھی تھی جو اپنے محبوبِ حقیقی سے ملاقات کے لیے بے چین تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس دنیاوی معاملات اور سرگرمیوں کو بالکل محدود کر کے زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں گزارنے لگے۔ دن رات تلاوتِ قرآنِ پاک، درود پاک اور اسمائے الٰہیہ کے ورد میں گزرنے لگے۔ ان ہی دنوں اچانک ایک روز آپ مدظلہ الاقدس سے راہ چلتے ایک عجیب حلیے والا شخص ملا جو آپ سے کہنے لگا کہ ''تم پر اللہ کے فضل کا دور شروع ہو چکا ہے اپنی حالت پر اسی طرح قائم رہنا''۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے جواب دیا ''میں وہ ہوں جو لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے اور ان کی رہنمائی کرتا ہے میں تو صرف تمہیں دیکھنے آیا ہوں'' یہ کہہ کر وہ شخص آگے بڑھ گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس حیران رہ گئے کہ اس شخص کو میری باطنی حالت کا کیسے پتا چلا۔ کچھ دیر بعد آپ نے اس شخص کو تلاش کرنا چاہا تو وہ غائب ہو چکا تھا۔ آس پاس لوگوں سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ انہوں نے تو ایسے حلیے کا کوئی شخص وہاں دیکھا ہی نہ تھا۔ دنیاوی علائق سے بالکل قطع تعلق کر کے کثرتِ عبادات میں آپ مدظلہ الاقدس اس قدر مشغول ہوئے کہ روحانی منازل کو تیزی سے طے کرتے ہوئے آپ کا باطنی رابطہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جڑ گیا اور وہ آپ کو اپنے باطنی فیض سے مالا مال کرنے لگے۔ پیرانِ پیر غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ مدظلہ الاقدس کی مرحلہ وار باطنی تربیت فرمائی اور آپ کو اسماء الحسنیٰ کا علم عطا فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے لاکھوں کی تعداد میں اللہ کے ہر اسم صفت کا ذکر فرمایا۔ دسمبر 1997ء میں غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ مدظلہ الاقدس کو اسم ذات کا ذکر عطا فرمایا اور پھر علمِ دعوت بھی عطا فرما دیا۔

باطن میں آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت مکمل کرنے کے بعد غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ کو ظاہری مرشد کی تلاش کا حکم دیا۔ لیکن اس دھوکہ دہی اور فراڈ کی دنیا میں مرشد کامل کی تلاش بہت بڑی آزمائش ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے حقیقی مرشد کی تلاش میں لاہور اور لاہور سے باہر بہت سے سفر کیے۔ اس سلسلے میں بہت سے پیروں سے ملاقات ہوئی لیکن کسی کی طرف دل مائل نہ ہوا۔ فروری 1998ء کی ایک رات آپ مدظلہ الاقدس نے خواب میں ایک انتہائی نورانی صورت بزرگ کی زیارت کی جو فرما رہے تھے ''بیٹا ہم تمہارے انتظار میں ہیں چلے آؤ''۔ بیدار ہونے پر آپ مدظلہ الاقدس ان انجانے بزرگ کی تلاش میں نکل پڑے لیکن وہ من موہنی صورت کہیں دکھائی نہ دی۔ ایک ماہ اسی بے چینی اور بے سکونی کے عالم میں عبادات اور مرشد کامل اکمل کی تلاش میں گزر گیا۔ مارچ 1998ء میں پھر وہی بزرگ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا ''بیٹا بڑی محنت کر لی اب چلے آؤ'' اور چمکتے ہوئے اسم ذات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ''تمہاری یہ امانت کب سے ہمارے پاس تمہارا انتظار کر رہی ہے''۔ آخر کار 12۔ ۔اپریل 1998ء کو آپ مدظلہ الاقدس کی تلاشِ مرشد اختتام پذیر ہوئی جب آپ اپنے ایک دوست نوید شوکت سروری قادری صاحب کے ساتھ ان کے مرشد سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے جو حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک کے قریب جھنگ میں رہائش پذیر تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی آپ مدظلہ الاقدس کو یوں محسوس ہوا کہ تمام دنیا کی دولت مل گئی ہے کیونکہ سامنے وہی خواب والی من موہنی صورت تشریف فرما تھی۔ یہ صورت سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی جنہوں نے آپ مدظلہ الاقدس کو دیکھتے ہی فرمایا ''آگئے ہو بیٹا ''۔ یہ ایسے الفاظ تھے جنہیں کمرے میں موجود کسی اور شخص نے نہ سنا۔ 12۔ اپریل 1998ء نمازِ مغرب کے بعد آپ مدظلہ الاقدس سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہو گئے اور پہلے ہی دن سے محبوبیت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہو گئے جو اس دن سے اب تک لمحہ بہ لمحہ ترقی پذیر ہیں۔ اس دن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ، اپنی ذات کی ہر ظاہری و باطنی خوبی، تمام مال و دولتِ دنیا اپنے مرشد کی خوشنودی اور رضا کے لیے وقف کر دیا۔ عشقِ مرشد میں خود کو فنا کر دیا حتیٰ کہ مرشد کی ہی تصویر بن گئے۔

آپ مدظلہ الاقدس نے خدمتِ مرشد کی غرض سے لاتعداد ڈیوٹیاں ادا کیں اور بہت کٹھن آزمائشوں سے گزرے۔ مرشد کی ذات سے وابستہ ہر شے مثلاً ان کے ہر موسم کے ملبوسات، جوتے، دوائیاں، استعمال کی دیگر تمام اشیاء کی ذمہ داری خود پر لے لی۔ اسمِ ذات کا فیض عام کرنے کے ان کے مشن کی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا اور اس سلسلے میں پورے ملک کا کئی بار دورہ کیا اور لاکھوں لوگوں کو اسم ذات کی دعوت دے کر راہِ فقر پر گامزن کیا، اصلاحی جماعت کی تنظیم کے لیے بے حد مالی و بدنی خدمت کی۔ جب سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فقرکی تعلیمات عام کرنے کی غرض سے ایک ماہنامہ رسالہ مراۃ العارفین نکالنے کی ذمہ داری آپ مدظلہ الاقدس کو سونپی تو اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے آپ نے دن رات ایک کر دیا اوررات رات بھر جاگ کر اپنی نگرانی میں رسالہ شائع کرواتے رہے۔ غرضیکہ آپ مدظلہ الاقدس نے خدمتِ مرشد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑا۔ اس دوران آپ مدظلہ الاقدس پر مرشد بھی اسی قدر مہربان رہے اور باطنی وروحانی منازل کے اعلیٰ ترین مقامات پر آپ مدظلہ الاقدس کو پہنچا دیا۔ تین سال کی کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے خود کو امانتِ فقر سونپے جانے کے ہر طرح سے لائق اور مستحق ثابت کر دیا۔ 2001ء کے حج کے دوران حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی آپ مدظلہ الاقدس کے امانتِ الٰہیہ کے وارث اور سلسلہ سروری قادری کے اگلے شیخ ہونے کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
26دسمبر 2003ء میں اپنے وصال سے قبل سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی دو سال تک مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے لیے باطنی تربیت فرمائی اور پھر اپنی تمام روحانی و باطنی قوتوں کو امانتِ فقر کی صورت میں خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے حوالے کر کے دنیا سے پردہ فرما لیا۔

مسندِ تلقین و ارشاد

خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ کے طور پر مسندِ تلقین و ارشاد کا آغاز اپنے مرشد کے وصال کے بعد سے فرما دیا۔اس وقت آپ کا ساتھ دینے والے سب سے پہلے خوش نصیب انسان محمد اسد خان سروری قادری تھے جو آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد پاک کے بیعت ہیں اور اب تک آپ کے ساتھ ہیں۔ ظاہری طور پر آپ مدظلہ الاقدس نے بیعت فرمانے اور اسم ذات عطا کرنے کا سلسلہ 14۔ اگست 2005ء کے دِن شروع فرمایا۔ اس دن سے آج تک سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے خزانہ فقر کے فیض کو تمام اُمت تک پہنچانے کے لیے شدید جدوجہدکی ہے اور انقلابی اقدامات اُٹھائے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے سے قبل طالبانِ مولیٰ کو اسمِ ذات کا ذکر چار منازل میں ترتیب وار عطا کیا جاتا تھا۔ طالبِ مولیٰ کو پہلے اسمائے اعظم اور پھر سلطان الاذکار '''' کا ذکر عطا کیا جاتا تھا اور ان اذکار میں ترقی کے ساتھ ساتھ وہ قربِ الٰہی میں بھی ترقی کرتا تھا۔ اس میں بہت عرصہ بھی لگ جاتا تھا اور بہت سے طالب اپنی طلب میں ناقص ہونے کی وجہ سے ابتدائی منازل پار نہ کرنے کی وجہ سے'' ھُو'' تک کبھی پہنچ ہی نہ پاتے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی روحانی قوت اور تصرف کی بنا پر طالبانِ مولیٰ پر یہ منازل آسان ترین کر دی ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے دن ہی سلطان الاذکار ''ھُو'' کا ذکر اور اسمِ ذات تصور کے لیے عطا فرماتے ہیں۔ بے شک یہ آپ مدظلہ الاقدس کے بارگاہِ ربوبیت میں انتہائی قرب اور اعلیٰ مقام کی نشانی اور دلیل ہے کیونکہ جو ذات جتنی قربِ الٰہی کے مقام پر ہوگی وہ اتنی ہی جلد اپنے طالبوں کو قربِ خداوندی دلانے کی استطاعت رکھتی ہوگی۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ جِلد دوم میں فرماتے ہیں ''ھُو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر ہے''۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی فرماتے ہیں ''ذاکراں را انتہا ھُو شد تمام'' ترجمہ:ذکرِ ''ھُو'' ذاکرین کا آخری ذکر ہے'' اس سے مراد یہ ہے کہ یہاں ذکر کی انتہا ہو کر دیدارِ ذاتِ حق کی ابتدا ہوتی ہے۔

اسمِ ذات کے ذکر و تصور میں کامل ہونے کے بعد طالبانِ مولیٰ کو فقر کی تاریخ میں پہلی بار ''اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ''کا تصور بھی آپ مدظلہ الاقدس کی مہربانی سے عطا کیا جارہا ہے۔ اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور کے متعلق حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ''جب طالب اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روحِ مبارک مع اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہے۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں''میرا ہاتھ پکڑ'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے'' (کلیدِ جنت)۔ اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ معجزانہ کمال صرف تبھی ظاہر ہوتا ہے جب یہ کسی کامل اکمل مرشد سے حاصل ہوا ہو۔

لقب

خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس سے ''سلطان محمد '' کا لقب عطا ہوا۔

سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور

خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات عام کرنے کے لیے سلطان الفقر پبلیکیشنز کے نام سے شعبہ نشرواشاعت بھی قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کے تحت اگست 2006ء سے ماہنامہ ''سلطان الفقر '' جاری کرنے کے علاوہ فقرو تصوف سے متعلق بہت سی کتب بھی شائع کی گئی ہیں اور بہت سی ابھی زیرِ طبع ہیں۔
خزانہ فقر کو عام کرنے کی مساعی میں آپ مدظلہ الاقدس کا سب سے اہم کام تحریک دعوتِ فقر کا آغاز ہے جس کے تحت پاکستان میں اور پاکستان کے باہر لوگوں کو ایک منظم طریقے سے فقر کی دعوت دی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو تحریک دعوتِ فقر سے منسلک ہو کر راہِ فقر اختیار کرنے اور اسمِ ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے قرب و معرفتِ الٰہی کی منازل طے کر کے دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل کرنے کی عام دعوت ہے۔ خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کا فیض عام کر دیا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو بیعت اور بغیر بیعت کے ذکر و تصورِ اسمِ ذات عطا کر رہے ہیں۔ فرقوں، مسلکوں اور گروہوں کی تفریق کے بغیر تحریک دعوتِ فقر کے دروازے ہر اس مسلمان کے لیے کھلے ہیں جو اپنی روحانی پاکیزگی کے حصول کا خواہاں اور تزکیۂ نفس وتصفیۂ قلب کے ذریعے قرب و دیدارِ الٰہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی روحانی قوت و تصرف کے باعث طالبوں کو بغیر ریاضت و مشقت اور چلہ کشی یا لمبے ورد و وظائف کے بغیر محض اپنی نگاہِ کامل سے پاک فرما رہے ہیں۔ اس مادی دنیا میں یہ نعمتِ بیش بہا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ جو آنا چاہے دروازے کھلے ہیں ورنہ حق بے نیاز ہے۔

خانقاہ

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :ترجمہ''ان گھروں میں کہ جن کو بلند کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ذکر کیا جاتا ہے اسمِ کا۔ (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں صبح شام'' (النور۔36)۔

اس آیت کریمہ میں وہ گھر جن میں صبح شام ذکرِ الٰہی کیا جاتا ہے، سے مراد ''خانقاہ'' ہے جہاں طالبانِ مولیٰ ہر لمحہ صبح شام ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے ہیں اور اس ذکرِ الٰہی کے ذریعے روحانی پاکیزگی اور تعلق باللہ میں مضبوطی حاصل کرتے ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کی روحانی پاکیزگی کے لیے خانقاہوں کا قیام تمام اولیاء اللہ کی سنت رہا ہے اور اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے مرشد کامل اکمل خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس خانقاہ سلسلہ سروری قادری کا قیام عمل میں لائے ہیں جس کے دروازے تمام پُر خلوص طالبانِ مولیٰ کے لیے، فرقے، گروہ، ذات پات، رنگ و نسل کے فرق کے بغیر کھلے ہیں۔ خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کو بیعت اور بغیر بیعت کے ذکر اور تصورِ اسمِ ذات عطا کر رہے ہیں۔ جو لوگ بیعت کے خواہش مند ہیں ان کے لیے ایک بار ذاتی ملاقات ضروری ہے البتہ بیرونِ ملک رہائش پذیر مسلمانوں کو بغیر بیعت کے ٹیلی فون پر بھی ذکر اور تصورِ اسمِ ذات کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسمِ ذات انہیں بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا جاتا ہے۔
خانقاہ سلسلہ سروری قادری کا پتہ: A/4-5 ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور(پوسٹل کوڈ54790) پاکستان

فون نمبرز: 6600 3543 (042) 92+
موبائل نمبر: 7607 473 (300) 92+
  9975 469 (345) 92+
khanqa sultan bahoo sultan bahu