Tehreek Dawat e Faqr

فقر کی تعلیمات کو عام کرنے اور اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو روحانی پاکیزگی کی طرف بلا کر ان کا تعلق باللہ مضبوط کرنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے تحریک دعوتِ فقر کا آغاز فرمایا ہے۔ یہ تحریک فقر کی روحانی پاکیزگی پر مبنی تعلیمات کو تحریری طور پر کُتب، ماہانہ رسالہ ''سلطان الفقر'' اور کتابچوں وغیرہ کی صورت میں پھیلا رہی ہے۔ مزید برآں تقریری طور پر اور زبانی گفت و شنید کے ذریعے بھی عام مسلمانوں تک فقر کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ فقر کی یہ تمام تعلیمات قرآن پاک ، احادیث اور رتعلیماتِ فقراء پر مشتمل ہیں۔ تحریک دعوتِ فقر کے قیام کے اغراض و مقاصد یہ ہیں:

اب ہم ان عنوانات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں:

فقر

فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی' غربت' مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ''فقر'' سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ''فقر'' دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے سو اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ''فقر'' اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:

Al Faqr

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔ صدق پر نہ عدل پر' نہ تقویٰ و صبر پر' نہ سخاوت پر نہ شجاعت پر' نہ ترک نہ توکل پر' نہ فصاحت و بلاغت پر' نہ حسن پر' نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ نسب پر حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام علومِ دین کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ قرآن و حدیث' فقہ' تمام بنیادی عقائد و عبادات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی اُمت کو حاصل ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔
''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے' معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تحفتاً مانگ لیا۔ چنانچہ ظاہری پاکیزگی کے لیے نماز اور روزوں کا تحفہ ملا اور باطنی پاکیزگی کے لیے فقر کا نور عطا کر کے دیدارِ الٰہی کی راہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کھول دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے جب بھی کسی نبی نے دیدارِ الٰہی کی التجا کی تو انہیں '''' یعنی ''تو ہرگز نہیں دیکھ سکتا ''کی صدا سننا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے وسیلے سے اُن کی اُمت کو اپنے دیدار کی نعمت عطا کی جو اس کائنات کی سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور اس لذتِ دیدار سے بڑھ کر اور کوئی لذت نہیں۔ اسی نعمت کے حصول کی خاطر تمام انبیاء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا کی تھی اور اللہ کی اسی عنایتِ خاص کی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء پر اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:

Al Faqr

ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے ۔ اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
(عین الفقر)

Al Faqr

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر لوگوں کی نگاہ میں معیوب و حقیر ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد گراں قدر چیز ہوگی''۔

  • ایک اور حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے۔'' (مکاشفۃ القلوب، باب فضیلتِ فقراء از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)
  • مزید فرمایا ۔ترجمہ:''فقر اس کے اہل کے لیے موجبِ عزت ہے''

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیدارِ الٰہی کی نعمتِ فقر کو اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا کیونکہ اس خزانے کو حاصل کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں' آسائشوں اور خزانوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جسے تمام خزانوں کا مالک (اللہ) مل جائے اسے باقی خزانوں کی کیا ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

Al Faqr

ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔

فقر کا یہ خزانہ روح کی معراج پر بصورتِ وصالِ حق تعالیٰ بندے کو عطا ہوتا ہے۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و وصال کی انتہا کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

Al Faqr

رجمہ: پھر( اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان) صرف دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔

(اس سے بھی کم فاصلہ) کی تفصیل کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان قرب کی انتہا کیا تھی البتہ معراج کے بعد نازل ہونے والی کچھ آیات اس قرب و وصال کی انتہائی صورت یعنی یکتائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

Al Faqr

ترجمہ: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (میدان جنگ میں) دشمنوں کو جو کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ماریں وہ دراصل (آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں بلکہ) اللہ نے ماریں تھیں۔

Al Faqr

ترجمہ: جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے (درحقیقت) اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

Al Faqr

ترجمہ: وہ (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔ ایک حدیث قدسی میں بھی بندے کے اللہ سے وصال کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

Al Faqr


ترجمہ: ''جب بندہ زائد عبادات سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے' میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے' میں اس کی زبان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے بولتا ہے' میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔''

فقر دراصل روحانیت کی وہ معراج اور کمال ہے جب روح نورانیت اور پاکیزگی کی اس انتہا کو چھو لیتی ہے جہاں وہ اپنے پاک ربّ سے یوں وصال پالیتی ہے جیسے قطرہ سمندر سے مل کر خود سمندر ہو جاتا ہے۔ فقر کی انتہا خود کو اپنے رب کی ذات میں یوں گم کر دینا ہے کہ انسان کا اپنا وجود ختم ہو جائے اور باقی رہے وہ ذات جسے دائمی بقا ہے۔ فقر کے اسی انتہائی مقام پر پہنچ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ذاتِ الٰہی کے کامل مظہر بن گئے جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:

Al Faqr



ترجمہ: حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت ان میں منعکس(ظاہر) ہے۔

اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر (دیدار و وصال الٰہی) مجھ سے ہے۔'' یعنی میری ذات ہی 'فقر' ہے۔

Al Faqr

ترجمہ:''جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا۔''

یعنی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت کو پہچانا اس نے اللہ کو پہچانا ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کر لیا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر کی یہ نعمت فقر کی پہلی سلطان حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حاصل کی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فاطمہؓ مجھ سے ہے۔'' پھر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات میں فنا ہو کر حقیقتِ فقر کو پاگئے تو فرمایا ''علیؓ مجھ سے ہیں۔'' پھر حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یہ خزانہ عطا ہوا تو فرمایا: ''حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مجھ سے ہیں۔'' پھر یہ خزانۂ فقر سینہ بہ سینہ اُمت کو منتقل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر اُمتی جو اُن سے سچا عشق رکھتا ہے اور اُن کے واسطے سے اپنے ربّ سے ملاقات کا خواہاں ہے' اس خزانۂ فقر کا وارث ہے۔جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :

Al Faqr


ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔

Al Faqr


ترجمہ: فقر اور سلطانی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے وارد اور عطا ہوتے ہیں۔ یہ سب ان کی پاک ذات کی تجلیات ہیں۔

ہر اُمتی اپنی اپنی استعداد اور توفیق کے مطابق راہِ فقر اختیار کر کے روحانیت کی وہ معراج پاسکتا ہے جہاں وہ اپنے رب کا دیدار کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''نماز مومن کی معراج ہے'' میں ہر مومن کو معراج کی خوشخبری سنا دی گئی ہے البتہ خواہش اور کوشش اُس کے اپنے ذمہ ہے۔
راہِ فقر ان تمام مومنین کی راہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام نازل کیا اور جن کی راہ اختیار کرنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا مانگتے ہیں۔ فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے رب سے ملاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فقر کے متعلق فرماتے ہیں:

Al Faqr

ترجمہ:''جو اہلِ بیت (علیہم السلام) سے محبت کرے اسے جامۂ فقر پہننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے'' (نہج البلاغہ)

غوث الاعظم حضرت سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو جب اللہ تک معراج نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا:
''اے غوث الاعظم اپنے اصحاب اور احباب سے کہہ دو اگر میری صحبت چاہتے ہیں تو فقر اختیار کریں۔ جب اُن کا فقر پورا ہوجائے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ (رسالۃ الغوثیہ)

پھر فرمایا ''اے غوث الاعظم ! جب تم کسی فقیر (وہ انسان جو فقر کی انتہا تک پہنچ جائے) کو اس حال میں دیکھو کہ وہ فقر کی آگ میں جل گیا ہے اور فاقہ کے اثر سے شکستہ حال ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔'' (رسالۃ الغوثیہ)
غوث الاعظم حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فقر کی تعریف بڑے جامع انداز میں فرماتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں: ''حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعث افتخار ہے'' میں 'فقر' سے مراد وہ فقیری (غربت و افلاس) نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے علاوہ تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دینا ہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے تو یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذاتِ وحدہٗ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور تک باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذاتِ خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔''

Ghaus-ul-Azam Shaikh Abdul Qadir Jillani Razi-Allahu Ta'ala Anhu فقر کے متعلق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مزید فرماتے ہیں:

  • شانِ فقر موٹے کپڑے پہننے اور بے مزہ کھانا کھانے میں نہیں۔ شانِ فقر تو تیرے دل کے زُہد اختیار کرنے میں ہے۔ (الفتح الربانی)
  • فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے اس میں کسی بیہودہ چیز کی آمیزش نہ کر۔ اللہ ہمیں ا ور تمہیں اس کی توفیق کی ارزانی کرے۔ (فتوح الغیب)
  • حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
    فقر ایسی صفت ہے کہ اللہ کی خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔ (کشف المحجوب)
  • حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    فقر دنیا میں آخرت کے غنا کی چابی ہے۔
  • حضرت شیخ ابراہیم الخواص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    فقر شرف اور بزرگی کی چادر، مرسلین علیہم السلام کا لباس اور صالحین کے اوڑھنے کی چادر ہے۔

sultan-bahoo سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو نہ تو تصوف اور نہ ہی طریقت کا بلکہ 'فقر' کا نام دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات راہِ فقر اور اس سے منسلک مقامات اور افکار سے متعلق ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حقیقتِ فقر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

  • جو شخص اللہ اور اس کا دیدار چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)
  • فقر عین ذات پاک ہے۔ (عین الفقر)
  • فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)
  • جس نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ کو اختیار کیا' اس نے فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنا رفیق بنا لیا۔ فقر سے بلند تر اور فخر والا کوئی دوسرا مرتبہ نہیں اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔ فقر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
  • فقر کے پاس تمام الٰہی خزانے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خزانے کو زوال ہے اور دنیا خواب و خیال ہے۔ فقر کا خزانہ معرفت اور توحیدِ لازوال ہے۔ جو بعینہٖ وصال ہے۔ دنیاوی لذت چند روزہ ہے۔ آخر معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہی پڑتا ہے۔ (توفیق الہدایت)
  • Al Faqr


    ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہانوں سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مدِ نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

  • راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (عین الفقر)

جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر مجھ سے ہے'' راہِ فقر اختیار کرنے والا جب روحانی و باطنی پاکیزگی کی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسے روحانی طور پر دیدارِ الٰہی سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اس کی رہنمائی اور تربیت فرماتے ہیں۔ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِّنظر رہتا ہے اور ان کی مجلس جہاں اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور عارفین کی ارواح موجود ہیں' سے باطنی طور پر بلاواسطہ فیض یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہیں جہاں دین کی بنیاد کی تکمیل ہوتی ہے۔ باطن میں ان سے اعلیٰ اور کوئی مقام نہیں۔ جب بندے کا دین ان ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوگا اور وہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے رہنمائی حاصل کرے گا تو اس کے دین کی عمارت بھی مضبوط اور مکمل ہوگی۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دین بے بنیاد اور کھوکھلا ہے۔

Al Faqr


حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی مجلس) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔(اقبالؒ )

Al Faqr


Al Faqr


Al Faqr


Al Faqr


ترجمہ: مومن کا فقر کیا ہے' جہان کی تسخیر اور اس فقر سے بندہ صفاتِ حق تعالیٰ سے متصف ہو جاتا ہے۔

جس طرح دنیاوی علم کا مقصد دنیا کی اشیاء کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے اسی طرح فقر کا مقصد اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا ہے۔ علم اسی دنیا اور اشیائے دنیا تک محدود ہے جبکہ فقر کی رسائی پروردگار عالم تک ہے۔ اقبال ؒ علم اور فقر کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

Al Faqr


Al Faqr


Al Faqr


حاصلِ بحث یہ کہ فقر دینِ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے جس میں انسان اللہ کا دیدار کر کے اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرتا ہے اور باطنی طور پر اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے

Al Faqr

ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ۔

اسلام صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ کے نام پر صرف نماز روزے کا نام نہیں۔ معرفتِ الٰہی کا حصول بھی دین کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے لیکن عام مسلمانوں نے اسے دین سے بالا کوئی شے سمجھ کر اسے صرف ایک طبقے (اولیاء اللہ) تک محدود کر دیا اور خود کو اس سے مبرّا سمجھ لیا حالانکہ قرآن کا مخاطب ہر وہ انسان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو فقر ہی اصل دین ہے کیونکہ دین کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ مقصد راہِ فقر پر چل کر ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:

Al Faqr


موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ' فساد اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آتا اور جب اپنے اندر جھانکتے ہیں' تو بے سکونی' خوف اور فرسٹریشن ہماری حسیات پر غالب نظر آتی ہیں۔ اسلام یعنی سلامتی والے دین کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سے سلامتی اور سکون مفقود ہے۔ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دین لائے ہیں' وہ ہر انسان کی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی بہتری کا دین ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اس انفرادی و اجتماعی فلاح کی گواہی تمام تاریخ دیتی ہے لیکن آج اسی دین کی پیروی کرنے کے باوجود مسلمانوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی ادھوری پیروی کر رہے ہیں اور اسلام میں پورے داخل نہیں ہو رہے۔ صرف ظاہری عبادات اور عقائد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر کے دین کی اصل روح یعنی معرفتِ الٰہی کو مجروح کر رہے ہیں۔ معرفتِ الٰہی حاصل کیے بغیر عبادات کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ بے روح عبادات بے سود اور بے کار ہیں' ان سے وہ مطلوبہ نتائج کبھی حاصل نہیں کیے جاسکتے جو دینِ اسلام کا مقصد ہیں یعنی روحانی ترقی اور ظاہری فلاح و بہبود۔اب ہم معرفتِ الٰہی یعنی دیدارِ الٰہی کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔

دیدارِ الٰہی

غوث الاعظم حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:

Al Faqr

ترجمہ: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔''

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)

اللہ کو دیکھ کر' پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضوری قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت اور عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے' اس دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو معرفتِ الٰہی کی تعلیم دی۔ جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنھم کی عبادات بے روح نہ ہوں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ''اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے''
اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ :

یعنی اس آیت میں (عبادت کے لیے ) سے مراد (معرفت کے لیے) ہے۔

صوفیاء کے نزدیک بھی عبادت سے مراد معرفت ہی ہے کیونکہ تمام عبادات کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان یعنی معرفت نہیں دلاتی وہ عبادت نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں سے مراد عبادت کی اصل روح یعنی ''معرفت'' کا حصول ہے۔ صرف عبادات کے لیے تو اللہ کے فرشتے ہی کافی تھے۔ اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں۔ ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے قرب' وصال اور معرفت کی طلب کریں جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میری پہچان ہو۔

انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اور اس کی عبادات کا مغز اللہ کی پہچان ہے' جس نے اس مقصد سے رو گردانی کی بے شک وہ بھٹک گیا۔ نہ دین ہی اس کا ہوا نہ دنیا۔ مرنے کے بعد قبر میں انسان سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے گا'''' بتا تیرا رب کون ہے؟جس نے اپنے ربّ کی پہچان ہی حاصل نہ کی ہو گی وہ اس سوال کا کیا جواب دے پائے گا۔ اگر اس کا جواب یہ ہوگا کہ کائنات اور تمام مخلوق کا خالق میرا رب ہے تو یہ جواب تو یہود و نصاریٰ کا بھی ہوگا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہونے کی فضیلت اُسے کیسے حاصل ہوگی؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت اسی لیے خیر الامم ہے کہ اس کے لیے اللہ کے دیدار و وصال کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں کئی آیات میں اللہ سے ملاقات (معرفت و دیدار) کی طرف اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راغب کیا گیا ہے۔

ترجمہ: اے انسان تو اﷲ کی طرف کوشش کرنے والا اور اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔

ترجمہ:آیا تم صبر کئے بیٹھے ہو؟ (اور اﷲ کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو؟ )حالانکہ تمہارا رب تمہاری طرف دیکھ رہا ہے اور تمہارا منتظر ہے۔

ترجمہ: جو شخص اپنے رب کا لقاء (دیدار)چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالحہ اختیار کرے۔
دنیا میں انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کے دیدار کی آرزو بھی دل میں رکھتا ہے اور بہت دیر تک اس سے ملاقات کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو انسان اللہ سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس محبت کے اظہار کے لیے خالی سجدوں کو کافی سمجھ لیتا ہے اور اس کے دیدار اور وصال کی خواہش ہی نہیں رکھتا بیشک وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: بے شک جو لوگ لقائے الٰہی (دیدار ) کی خواہش نہیں کرتے اور دنیا کی زندگی کو پسند کر کے اس پر مطمئن ہو گئے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو بیٹھے' انہیں ان کی کمائی سمیت جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

دیدارِ الٰہی سے انکاری لوگوں کے انجام سے بھی آگاہی فرما دی۔

ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے رب کی نشانیوں اور اس کے لقاء(دیدارِ الٰہی) کا انکار کیا ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ( یعنی بغیر حساب کے انہیں جہنم رسید کیا جائے گا)۔

ترجمہ: بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے لقائے الٰہی( دیدار) کو جھٹلایا۔

ترجمہ: خوب یادرکھو وہ اپنے ربّ کے لقاء (دیدار) پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور یاد رکھو بیشک وہ (اللہ تعالیٰ ) ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

ترجمہ :جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔
کئی احادیث اور اولیاء کرام کے اقوال بھی دیدارِ الٰہی کے ذریعے اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب تم اپنے پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔'' (مشکوٰۃ)

ایک اور روایت میں ہے کہ ''ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چودھویں کے چاند کو دیکھ کر فرمایا جس طرح تم چودھویں کے چاند کو دیکھ رہے ہو اسی طرح تم پروردگار کو دیکھو گے اور خدا تعالیٰ کو دیکھنے میں تم کوئی اذیت اور تکلیف محسوس نہیں کرو گے۔ ''(الفتح الربانی)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا ''میرے دل نے اپنے رب کو نورِ ربی کے واسطہ سے دیکھا۔' ' (سِرّالاسرار)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے ''میں اپنے رب کی اس وقت تک عبادت نہیں کرتا جب تک کہ اُسے دیکھ نہ لوں۔''

رضیکہ اللہ کے دیدار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا اس کی محبت کا اولین تقاضا اور تمام عبادات کی جان ہے۔ دینِ اسلام کی بنیاد توحید یعنی کلمہ طیبہ کی زبانی تصدیق تو بہت آسان ہے لیکن یہ بنیاد اس وقت تک ادھوری ہے جب تک قلب اس کی تصدیق نہ کرے اور قلب کسی بات پر یقین تب تک نہیں کرتا جب تک مشاہدے کے ذریعے اسے اچھی طرح جانچ اور پرکھ نہ لے۔ چنانچہ قلبی تصدیق تبھی ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ کو جان کر پہچان کر پورے یقین کے ساتھ واحد مانا جائے۔ اسی طرح نماز مومن کی معراج تبھی بنتی ہے جب معرفتِ الٰہی حاصل کرنے کے بعد نماز یوں ادا کی جائے گویا اللہ کو دیکھ کر ادا کی جارہی ہے۔

حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ الفتح الربانی میں واضح طور پر فرماتے ہیں ''ہمارا پروردگار موجود ہے اور دیکھا جا سکتا ہے۔''

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو جسم اور مکان سے پاک ہے اسے دیکھنا کیسے ممکن ہے؟ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کا جواب نہایت آسان الفاظ میں دیتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ''صاحبِ یقین و معرفت مسلمان کے لیے دو ظاہری اور دو باطنی آنکھیں ہیں۔ پس وہ ظاہری آنکھوں سے زمین پر بسنے والی مخلوق کو دیکھتا ہے اور باطنی(روحانی ترقی کے بعد) آنکھوں سے آسمان پر بسنے والی مخلوق کو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد اس کے دل سے تمام پردے اٹھا دیئے جاتے ہیں پس وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کو بلاشبہ و بلاکیف دیکھتا ہے۔ پس وہ مقرب و محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔'' (الفتح الربانی)

یہ حقیقت ہر باشعور انسان پر عیاں ہے کہ انسان کا ایک ظاہری جسم ہے جو دیکھا جاسکتا ہے اور ایک باطن ہے جسے روح' دل یا قلب' اندر کا انسان یا ضمیر کہا جاتا ہے اور جو عام لوگوں سے چھپا ہوا ہے۔ یہ باطنی انسان ہی اصل انسان ہے۔ ظاہری جسم صرف اس باطنی انسان کے لیے اس دنیا میں لباس کا کام دیتا ہے۔ یہ جسم اسی دنیا میں تخلیق ہوتا ہے اور باطنی انسان یا روح کے اپنے اصل وطن واپسی کے وقت اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسان جو اللہ کی طرف سے آیا اور جسے واپس لوٹ کر اللہ کے ہاں جوابدہ ہونا ہے' باطن کا حقیقی انسان ہے (بے شک ہم اللہ کی طرف سے ہیں اور اللہ کی طرف ہی ہمیں لوٹ کر جانا ہے)۔ اللہ کا دیدار کرنا' اللہ کی معرفت اور پہچان حاصل کرنا اس باطنی انسان یا روح کا کام ہے کیونکہ اس کا تعلق اللہ سے ہے ۔جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ آدمؑ اور اولادِ آدم میں پھونکی گئی روح کے متعلق فرماتا ہے :

ترجمہ:'' اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی'' (سورہ حجر۔۲۹)

یہی روح اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتی ہے۔

اللہ کا دیدار بھی ظاہری آنکھوں نے بصارت سے نہیں بلکہ روح نے نورِ بصیرت سے کرنا ہے۔ جن کی روح نور بصیرت حاصل کر کے اللہ کا دیدار نہیں کرتی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: پس یہ (ظاہری) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

روح جب اللہ کے پاس موجود تھی تو اللہ کے دیدار میں مگن تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس روحانی انسان کو اپنی پہچان کے امتحان کے لیے اس دنیا میں بھیجا تو اپنے جلوؤں کے نور اور انسان کے درمیان نفس کی دیوار حائل کر دی۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے جال سے نکل کر نفس کے ان حجابوں کو توڑے اور اپنے رب کا دیدار اور پہچان حاصل کرے۔ اللہ کے جلوؤں کا نور ہی وہ امانت ہے جو انسان کے قلب میں پوشیدہ ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ''ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کر دی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ (اپنے نفس پر) ظالم اور (اپنی حقیقت سے) جاہل ہے۔''

انسانی قلب (باطن) میں پوشیدہ یہ نورِ الٰہی اللہ کی امانت ہے جسے بروزِ قیامت واپس لوٹانا ہے۔ اس امانت کی حفاظت تبھی ممکن ہے جب باطنی یا روحانی انسان ترقی اور قوت حاصل کرے اور نفس کے پردوں کو توڑتے ہوئے اپنی ذات کے اندر ہی موجود اس نورِ الٰہی تک رسائی حاصل کرے۔ جب تک وہ اس امانت تک رسائی حاصل نہ کر لے' نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی لیے فرمایا ''جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں۔''کیونکہ ایمان دراصل اسی امانت کی حفاظت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کامیابی کی ضمانت بھی نورِ الٰہی سے معمور قلب کی اصل حالت میں واپسی کو قرار دیا ہے۔

ترجمہ: اور قیامت کے دن مال اور اولاد کچھ نفع نہ دیں گے۔ بلکہ قلبِ سلیم ہی کام آئے گا۔

چنانچہ اللہ کی معرفت اور پہچان انسان کو اپنے ہی باطن میں پوشیدہ نورِ الٰہی کی امانت تک رسائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ :اور میں تمہاری سانس اور تمہاری جان کے اندر ہوں کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔

ترجمہ: اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔
حدیثِ قدسی میں فرمایا

ترجمہ:نہ میں آسمانوں میں سماتا ہوں نہ زمین میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں۔

ترجمہ: مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے۔
اسی لیے اپنے رب کی معرفت کے لیے انسان کو اپنے باطن میں ہی سفر کرنا ہے اور اپنی ذات کی حقیقت سے اپنے رب کی حقیقت حاصل کرنا ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ بیان فرماتا ہے:

ترجمہ: ''جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے رب کو پہچانا۔''
اپنی اسی حقیقی پہچان کو اقبالؒ نے خودی کا نام دیا ہے اور امت مسلمہ کو اس کی پہچان حاصل کرنے کا درس دیا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہری جسم کو پالنے 'سجانے اور ہر تکلیف و بیماری سے بچانے کے لیے تو ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اپنی پوری توجہ اس کی دیکھ بھال میں لگا دیتا ہے لیکن اپنے باطنی حقیقی انسان کی طرف اس کی کوئی توجہ ہی نہیں۔ روح جو اپنے رب سے ملاقات اور دیدار کے لیے بے چین رہتی ہے' انسان کی اس بے توجہی اور نفسانی و دنیاوی خواہشوں کے جال میں الجھے رہنے کی وجہ سے روح بیمار اور پژمردہ ہوجاتی ہے۔ انسان کی اندرونی بے چینی کی وجہ اس کی اپنی روح سے بے توجہی ہی ہے۔ جب روح پژمردہ ہوگئی تو نفسِ امارہ (جو برائی کا حکم دیتا ہے) کو انسان کے باطن پر غلبہ اور قوت حاصل کرنا آسان ہوگیا یوں نہ انسان کا باطن درست رہا نہ ظاہر۔ نتیجہ انفرادی و اجتماعی بربادی۔ رسالہ غوثیہ میں اللہ تعالیٰ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے فرماتا ہے: ''جو میری طرف باطن میں سفر کرنے سے محروم رہا میں اسے ظاہری سفر میں مبتلا کر دیتا ہوں۔ ''یعنی جب انسان اپنے باطن کو درست کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنی تمام تر توجہ باطن کی بجائے ظاہر پر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ظاہری مشکلات میں الجھا دیتا ہے۔ ہمارے اردگرد کے ماحول کی بہتری کا دارومدار بھی اسی بات پر ہے کہ ہم اپنی باطنی درستی پر توجہ دیں کیونکہ جب باطن درست ہو جائے تو ظاہر از خود درست ہوجاتا ہے۔
لیکن باطن ذکر اسمِ ذات یعنی سلطان الاذکار ھُو ، تصورِ اسمِ ذات اور تصورِ اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر نہ زندہ اور نہ ہی درست ہو سکتا ہے گویا ذکرِ ھُو اور تصورِ اسم ذات باطن کے بند تالے کو کھولنے والی کلید (چابی) ہے تصورِ اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی کلید ہے بشرطیکہ یہ کسی مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ سے حاصل ہوئی ہو۔

ذکرِ اسمِ اللہ ذات

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے' تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: بے شک ''ذکر '' سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔
یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے اس کی روح کو غذا اور رزق نہیں ملتا جو اس کی زندگی اور قوت کے لیے ضروری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ''بے شک جو ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس کی (باطنی) روزی تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے روز اسے اندھا اٹھائیں گے۔''
اس آیت مبارکہ میں رزق سے مراد یقیناًباطنی رزق ہے کیونکہ ظاہری رزق تو اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو بھی بہت دیاہے جو اللہ کا قطعاً ذکر نہیں کرتے۔
دنیا و آخرت میں انسان کے خسارے کی وجہ اس کی ذکر سے غفلت ہے کیونکہ ذکر نہ کرنے کے باعث اس کی روح وہ قوت حاصل نہ کر پائے گی جو اسے نفس کے حجاب چیر کر اس مقام تک لے جائے گی جہاں وہ دیدار و معرفتِ الٰہی حاصل کر سکے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ:اے ایمان والوں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو ذکر سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں گے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اللہ کے مختلف ناموں کی تسبیح و ذکر کر رہی ہے جیسا کہ وہ قرآن میں فرماتا ہے:

ترجمہ:ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ اس میں ہے سبھی اس () کی تسبیح کرتے ہیں اور مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ذاتی اسم کا ذکر دیا ہے کیونکہ یہ اس کی تمام صفات کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تمام اسماء میں سب سے قوت والا اسم ہے۔ اللہ کا یہ اسم اس قدر قوت کا حامل ہے کہ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں اسم '''' رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں پوری کائنات' جنت و جہنم رکھ دیئے جائیں تو اسم ذات والا پلڑا بھاری ہوگا۔ اسم ذات کے ذکر سے روح کو وہ نورِ بصیرت حاصل ہوتا ہے جو دیدارِ الٰہی کے لیے لازم ہے۔ روح اس قدر قوی ہوجاتی ہے کہ جسم و جان کے تمام حجابات توڑ کر جسمانی موت سے قبل ہی اللہ کا وصال' دیدار اور معرفت حاصل کر سکتی ہے۔ چونکہ ذکرِ '''' ہی انسانی مقصدِ حیات یعنی معرفتِ الٰہی کے حصول کی بنیاد ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہلی وحی اور سب سے پہلا حکم اللہ کے ذاتی نام کے ذکر کا تھا۔

ترجمہ:پڑھ اپنے ربّ کے نام (اسم) سے جس نے خَلق کو پیدا کیا۔
تمام عبادات کی فرضیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت اور پیروکاروں کو اسم ذات کے ذکر کا حکم دیا تاکہ ان کی ارواح نور بصیرت حاصل کر کے معرفتِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں جو تمام عبادات کی روح اور بنیاد ہے۔ دین کی اس بنیاد کے مضبوط ہونے کے بعد ہی ان پر عبادات فرض کی گئیں۔ سورۃ مزمل سورۃ الاعلیٰ' سورۃ واقعہ' سورۃ اعراف' سورۃ کہف اور سورۃ طٰہٰ عبادات فرض ہونے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئیں ان تمام میں اللہ کے اسم کے ذکر کا حکم بھی دیا گیا ہے اور طریقہ بھی سمجھایا گیا ہے۔

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رَبِّ عظیم کے نام (اسم) کی تسبیح بیان کرو۔

ترجمہ:( اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )اپنے رب کے نام (اسمِ ) کی تسبیح بیان کرو جو سب سے اعلیٰ ہے۔

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

ترجمہ: میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔
پھر یہ ذکر کرنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا۔

ترجمہ:اور صبح و شام ذکر کرو اپنے ربّ کا دل میں' سانسوں کے ذریعے' بغیر آواز نکالے' خفیہ طریقے سے' عاجزی کے ساتھ اور غافلین میں سے مت بنو۔

ترجمہ:اپنے رب کا ذکر کرو خفیہ طریقے سے' عاجزی کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
ذکر کا حکم خفیہ طریقے سے کرنے کا مطلب بغیر آواز کے ذکر کرنا ہے اور سانسوں کے ذریعے ذکر کا حکم اس لیے ہے کہ سانس کا تعلق روح سے ہے۔ جیسے ہی روح جسم میں داخل ہوتی ہے جسم سانس لینا شروع کردیتا ہے اور جیسے ہی روح جسم سے نکل جاتی ہے' جسم سانس لینا بند کر دیتا ہے۔ چنانچہ سانسوں کے ذریعے اسم کا ذکر روح یا باطنی انسان کی قوت کا باعث ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا

ترجمہ:''سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نکلے وہ مردہ ہے۔'' یعنی جس سانس میں اللہ کا ذکر کیا جائے وہ روح کی زندگی کا باعث ہے۔
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:''جو شخص ذکر کرتا ہے اور جو شخص ذکر نہیں کرتا اس کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ (بخاری و مسلم)
ذکر کرنے والے کی روح زندہ اور نہ کرنے والے کی روح مردہ ہے۔ آج کل لوگوں کی اکثریت تو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتی اور نماز روزوں پر اکتفا کیے بیٹھی ہے اور جو لوگ ذکر کرتے بھی ہیں تو زبانی ذکر کرتے ہیں ۔ جو لوگ قلبی ذکر کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے نزدیک قلب سے مراد سینے کے بائیں جانب رکھا گوشت کا لوتھڑا (دِل)ہے اور وہ حبسِ دم کر کے زور زور سے کا ذکر کر کے اسی لوتھڑے کو چلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ مادی دل پھڑکنے لگ جائے تو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی روح زندہ ہوگئی۔ حالانکہ جسم میں رکھے اس دل کا کام صرف خون کی ترسیل ہے۔ یہ بھی باقی جسمانی اعضاء کی طرح ایک عضو ہے جس کو باقی جسم کے ساتھ اسی دنیا میں رہ کر مٹی کا حصہ بن جانا ہے۔ روح غیر مادی ہے' اس کی قوت سانسوں کے ذریعے خفیہ طور پر عاجزی کے ساتھ' مسلسل اسم ذات کا ذکر کرنے میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ: پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے اور کروٹوں کے بل لیٹے ہوئے ذکر کرو۔
اس آیت مبارکہ میں کروٹوں کے بل لیٹنے سے مراد سونا ہے اور سوتے وقت صرف سانسوں کے ذریعے ذکر ممکن ہے۔
جو لوگ مادی دل کو ''قلب'' مان کر اس کا تعلق سانسوں سے جوڑتے ہیں اور پھر مخصوص اوقات مقرر کر کے صرف اسی میں ذکرِ کرتے ہیں نہ کبھی روحانی زندگی پاسکتے ہیں نہ ہی دیدار و معرفتِ الٰہی۔ ان کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

  • وہ لوگ کتنے احمق ہیں جو دل' نفس اور روح کے باطن کا علم نہیں رکھتے اور گوشت کے ایک لوتھڑے کو دل کے مقام سے بند کر کے تفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ذکر قلبی ہے اور گوشت کے اس لوتھڑے کی دھڑکن کو دم کے ساتھ ملا کر سینے میں لاتے ہیں ا ور کہتے ہیں کہ یہ ذکر قربانی ہے اور گوشت کے اس لوتھڑے کو تفکر کی آنکھ کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ ذکر نور حضور ہے اور اسی گوشت کے لوتھڑے کو تفکر سے مغزِ سر میں لے جاتے ہیں اور اسی کا نام ذکر سلطانی روحانی رکھتے ہیں۔ یہ تمام لوگ غلطی پر ہیں۔ یہ تمام وساوس اور خطراتِ شیطانی ہیں(جو اللہ کی اصل راہ اور قرب سے دور کر دیتے ہیں)۔ (کلید التوحید کلاں)
  • دل یہ نہیں جس کی جنبش تجھے شکم کے بائیں طرف معلوم ہوتی ہے بدن میں یہ حیوانی دل تو کفار' منافق و مسلم سب کے پاس موجود ہے۔ (عین الفقر)
  • میں حیران ہوتا ہوں اُن احمق اور سنگ دل لوگوں پر جو رات دن بلند آواز میں '' ھُو'' '' ھُو'' کرتے رہتے ہیں مگر اسمِ ذات کی کنہہ کو نہیں جانتے اور رجعت کھا کر پریشان حال اہلِ بدعت ہو جاتے ہیں اور اُن کے سر میں خواہشاتِ نفسانی سمائی رہتی ہیں۔ (کلید التوحید خورد)

مادی دل سے ذکر کرنا باقی عبادات کی طرح جسم کی عبادت ہے' روح کی زندگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ کا قرب جسم نے نہیں بلکہ روح نے حاصل کرنا ہے گوشت کے لوتھڑے کا ذکر روح کوکوئی تقویت نہیں پہنچا سکتا کیونکہ روح جسم سے بہت بالا تر ہے۔ البتہ روح کا عروج جسمانی اعمال کی درستی کا باعث ہے چنانچہ جسمانی دِل کا یہ ذکر نہ بندے کو ربّ سے ملاتا ہے' نہ اس کا دیدار اور معرفت عطا کرتا ہے۔ لہٰذا بالکل بے فائدہ ہے۔ اصل ذکر سانسوں کے ذریعے کیا جانے والا ذکرِ اسمِ ذات ہی ہے۔

سلطان الاذکار ھُو

اسمِ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں اسمِ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ' بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ ذات ہی رہتاہے۔ اسم کے شروع سے پہلا حرف ہٹا دیں تو رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں''کے لئے'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:

ترجمہ: ''اﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے''۔
اور اگر اس اسم پاک کا پہلا '' '' ہٹا دیں تو '' '' رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں''اس کے لئے'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے ۔ جیسے ارشادِ ربانی ہے:

ترجمہ: ''اسی کے لیے بادشاہت اور حمد وستائش ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے''۔
اور اگر دوسرا '''' بھی ہٹا دیں تو '''' رہ جاتا ہے اور یہ اسمِ ضمیر ہے اور اس کے معنی ہیں'' وہ'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے:

ترجمہ: وہی اﷲ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر (ذاتِ حق تعالیٰ)۔
فقراء اور عارفین نے '''' کو اسمِ اعظم اور سلطان الاذکار بتایا ہے۔
امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں '''' اسمِ اعظم ہے۔

شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ جلد دوم میں فرماتے ہیں:

''عارفین کا آخری اور انتہائی ذکرہے۔''

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس کو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر قرار دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ذکرِ ھُو ذاکرین کا انتہائی ذکر ہے ۔
جس کے وجود میں ذکر اسمِ '''' کی تاثیر جاری ہو جاتی ہے اُسے '' ''(ذاتِ حق)سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ غیر ماسویٰ اللہ سے وحشت کھاتا ہے۔ (عین الفقر)
ذکرِ کرتے کرتے جب ذاکر کے وجود پر اسمِ غالب آکر اُسے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے تو اس کے وجود میں'''' کے سوا کچھ نہیں رہتا۔(محک الفقر کلاں)

گزشتہ ادوار میں اسمِ ذات مندرجہ بالا چار منازل میں طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے سلطان الاذکار '''' جو حقیقتاً طالب کو بارگاہِ الٰہی میں لے جاکر ذاتِ حق تعالیٰ کی پہچان عطا کرتا ہے، تک پہنچنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا تھا، اور عموماً کمزور طالبانِ مولیٰ کی رسائی کبھی '''' تک ہو ہی نہ پاتی تھی۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مرشد کامل اکمل خادم سلطان الفقر حضرت سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے فیضِ بے بہا اور بے پناہ روحانی قوت کی وجہ سے طالبانِ مولیٰ کو بیعت کے فوراً بعد سلطان الاذکار '''' عطا کر دیا جاتا ہے اور تصور کے لیے سنہری اسمِ ذات عطا کیا جاتا ہے۔

تصورِ اسمِ اللہ ذات

سانسوں کے ساتھ اسمِ کے ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ ذات بھی اللہ کی پہچان و معرفت حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے ۔کیونکہ کسی بھی چیز کی پہچان کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ ذریعہ آنکھ اور بصارت ہے۔دیگر حواس اشیاء کی شناخت کے ناقص آلے ہیں۔جبکہ ''دیکھنے '' سے کسی بھی چیز کی پوری پوری پہچان ہو جایا کرتی ہے اس لیے آنکھ سے کیا جانے والا تصور اور پاس انفاس(سانس کے ذریعے) سے کیا جانے والا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ صرف یہی ذریعۂ معرفت اور وسیلۂ دیدارِ پروردِگار ہے۔ قرآن پاک میں سورہ مزمل میں بھی اللہ تعالیٰ ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ کا حکم دیتا ہے:

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

آیت کے پہلے حصے میں ذکر کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں تصور کا۔ ''سب سے ٹوٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ'' میں ''متوجہ'' ہونے سے مراد قلب و ذہن سے ہر شے کا خیال نکال کر صرف اللہ کی ذات کا تصور آنکھوں کے ذریعے دِل میں بسانا ہے۔تصور سے اسمِ ذات کو اپنے دِل پر نقش کرنے سے یہ انسان کی باطنی شخصیت پر اثر انداز ہوکر اسے زندہ اور بیدار کرتا ہے اور اس طرح انسان کی ''باطنی آنکھ'' کھل جاتی ہے جس سے اسے نورِ بصیرت حاصل ہو جاتا ہے جس سے اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔
ذکر اور تصور کا باہمی رشتہ ایک تانے بانے کی مانند ہے اور ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ذہن ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ کسی نہ کسی چیز کے خیال میں محو رہتا ہے۔ ایک لمحہ بھی خالی نہیں رہ سکتا ۔ یہ ذکر کی قسم ہے اور جن چیزوں کے متعلق ہمارا دِل سوچتا ہے تو ان کی شکلیں ہمارے سامنے آجاتی ہیں ۔ اگر بیوی بچوں کے متعلق سوچتا ہے تو وہ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور گھر کے بارے میں سوچتا ہے تو گھر ہمارے سامنے آجاتا ہے اسے ''تصور'' کہتے ہیں۔ ذکر و تصور کا یہ سلسلہ مسلسل اور لگا تار جاری رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا کے لوگوں اور اشیاء سے ہماری محبت اور رشتہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہی تعلق اور لگاؤ ذکر اور تصور ہے۔ صوفیاء کرامؒ ذکر اور تصور کے اس دنیاوی رُخ کو رُوحانی رُخ کی طرف موڑ کر واصل باللہ ہونے کا طریقہ ذکر اور تصورِ اسمِ ذات کی صورت میں بتاتے ہیں۔ جس طرح لوہے کو لو ہا کاٹتا ہے اور پانی کی بہتات سے پَژ مُردہ فصل پانی ہی سے ہری بھری ہوجاتی ہے اسی طرح ذکر کو ذکر اور تصور کو تصور کاٹتا ہے۔ ضرورت صرف ذِکر اور تصور کے رُخ کو بدلنے کی ہے' اگر ہم دنیا اور اس کی فانی اشیاء اور اشکال کی بجائے اسمِ ذات کا ذِکر اور تصور کریں تو ہمارا اس دنیا اور اس کی اشیاء سے لگاؤ اور محبت ٹوٹ کر اللہ سے عشق و محبت پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کے قلب میں پوشیدہ امانتِ حق تعالیٰ ظاہر ہوجاتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مشق تصورِ اسمِ ذات کے انسانی قلب و باطن پر اثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  1. مشق تصورِ اسم ذات سے دِل اس طرح زندہ ہوجاتا ہے جس طرح کہ بارانِ رحمت سے خشک گھاس اور خشک زمین زندہ ہو جاتی ہے۔(شمس العارفین)
  2. تصورِ اسم ذات کے ذریعے طالبِ اللہ لاھوت لامکان میں ساکن ہوکر مشاہدۂ اَنوار دیدارِ ذات کھلی آنکھوں سے کرتا ہے اور ہر دو جہان کی آرزؤوں سے بیزار ہو جاتا ہے ۔عین دیکھتا ہے عین سنتا ہے اور عین پاتا ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)
  3. ہر قفل کی ایک کنجی ہوتی ہے اور انسان کے (باطنی) وجود کی کنجی تصورِ اسم ذات ہے۔ جو شخص وجود کا قفل کھول کر قلبِ سلیم کا خزانہ حاصل کرنا چاہے تو تصورِ اسمذات سے ایسا کرے۔(نور الہدیٰ کلاں)

تصور اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

فقر کی تاریخ میں پہلی بار '' اسمِ '' بھی تصور کے لیے طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جارہا ہے۔ جس طرح اسمِ'' ''اللہ کا ذاتی نام ہے اور اس کی تمام صفات اور دیگر صفاتی ناموں کا احاطہ کرتا ہے اسی طرح اسم ''''(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے اور اُن کی تمام صفات اور ذات کی تمام خوبیوں کا جامع ہے اور ان کی ذات سے سب سے زیادہ وابستہ ہے اسی لیے تصورِ اسم مجلسِ محمدی کی حضوری کے لیے سب سے پُر اثر اور طاقتور ذریعہ ہے۔ جو باطن میں دیدارِ الٰہی سے پہلے اہم مقام ہے جسے مجلسِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کی حضوری حاصل ہوگئی اسے کامل دین حاصل ہوگیا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور سے علم کی سچی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (کلیدِ جنت)

اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور کرنے والا جب اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت کا تصور کرتا ہے تو تمام ماسوائے اللہ کو ترک کر دیتا ہے۔ جس طرف بھی نگاہ کرتا ہے اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نظر آتی ہے۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باادب باحیاء عاشق' اللہ تعالیٰ کا معشوق بن جاتا ہے۔ (عقلِ بیدار کلاں)

جب طالب اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک مع ارواحِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہیں۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں ''میرا ہاتھ پکڑ۔'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے ۔ (کلیدِ جنت)

مرشد کامل اکمل

اسم ذات کا ذکر اور تصور اور اسم کا تصور بھی تبھی بندے کو اللہ سے ملاتاہے جب یہ ذکر وتصور ایسے رہنما کی نگرانی میں کیا جائے جو اللہ سے وصال کی راہ جانتا ہو ۔جس طرح انسان کسی نئے راستہ پر چلنے سے پہلے' جس سے وہ بالکل ناواقف ہو' ضرور کسی کی رہنمائی حاصل کرتا ہے یا کسی بھی سبق اور تعلیم یا ہنر کو سیکھنے کے لیے اسے معلم کی ضرورت ہوتی ہے' اسی طرح فقر کے اس باطنی سفر کی راہ سے نہ صرف انسان ناواقف ہے بلکہ اس راستے پر جگہ جگہ شیطان راہزن بن کر گھات لگائے بیٹھا ہے تاکہ انسان کو اس راہ سے بھٹکا سکے اور کبھی اللہ تک نہ پہنچنے دے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور فواحش کی تعلیم دیتا ہے۔

چنانچہ اس سفر میں اللہ کے طالب کو ذکر وتصورِ اسم کے زادِ راہ کے ساتھ ساتھ ایک رہنما کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔

مرشد کامل اکمل جواس راہ کو بخوبی جانتا ہے ایک سالک کا رہنما بھی ہے' معلم بھی ہے اور رفیق بھی۔ وہی طالب کو شیطانی وساوس اور خطراتِ ہوا و ہوس (نفسانی خواہشات) سے بچا کر اس راہ پر چلاتا اور منزل تک پہنچاتا ہے۔ مرشدِ کامل کے بغیر کسی بھی انسان کا' خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار اور نیک کیوں نہ ہو' اللہ کی معرفت کا سفر طے کرنا ناممکن ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :

ترجمہ: جس کا شیخ (مرشد) نہیں اس کا شیخ (مرشد) شیطان ہے۔

یقیناًجب اصل رہنما کا ساتھ نہ ہوگا تو شیطان کے لیے آسان ہو جائے گا کہ وہ راستے سے ناواقف انسان کو بھٹکا دے۔ مرشدِ کامل ہی اس راہ میں سالک کا طبیب بھی ہے جو اس کی باطنی بیماریوں حسد' بہتان' غیبت' بغض' کینہ' بدگمانی' تکبر' عجب یعنی خود پسندی یا خودنمائی' ہوس' طمع لالچ' حرص وغیرہ کا علاج کر کے اس کی روح کو تندرست و توانا بناتا ہے تاکہ اس کے لیے یہ سفر طے کرنا مشکل نہ رہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
انسان کے وجود میں اللہ تعالیٰ اس طرح پوشیدہ ہے جس طرح پستہ کے اندر مغز چھپا ہوا ہے۔ مرشد کامل ایک ہی دم میں طالب اللہ کو حضورِ حق میں پہنچا کر مشرفِ دیدار کر دیتا ہے' کیا عالمِ حیات اور کیا عالمِ ممات کسی بھی وقت (طالب) اللہ تعالیٰ سے جدا نہیں ہوتا۔ (نور الہدیٰ کلاں)
بقول شاعر:

اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ خود بھی ایسے مرشد کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے جو ذکر میں کامل ہو۔

ترجمہ: پس اہلِ ذکر سے(اللہ کی راہ ) پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔

یہاں اہلِ علم سے پوچھنے کا حکم نہیں دیا کیونکہ علم مختلف انسانوں کو ان کی سمجھ' approach اور زاویہ نگاہ کے مطابق ایک ہی شے کی حقیقت جاننے کے مختلف راستے بتاتا ہے اور یوں لوگوں میں تفرقہ کی بنیاد ڈالتا ہے۔ آج اُمتِ مسلمہ میں فرقہ پرستی کی بنیاد مختلف علماء کرام کا دین کے علم میں اختلاف ہی ہے کہ ہر عالم اپنی سمجھ کے مطابق دینِ اسلام کی نئی تشریح کرتا ہے۔ جن لوگوں کو اس کی تشریح کچھ مناسب معلوم ہوتی ہے وہ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں چنانچہ امت عبادات و عقائد کی بنیاد پر بے شمار فرقوں میں بٹی ہوئی مختلف راہوں پر چل رہی ہے۔ حالانکہ اللہ تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
ترجمہ:''اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ ''یہاں' اللہ کی رسی' سے مراد مرشدِ کامل ہی ہے جو بندے کو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ علماء کرام تو خود تفرقے میں پڑے ہوئے ہیں وہ کسی کو اللہ تک کیسے پہنچائیں گے۔
مرشدِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باطنی جانشین' اُن کے نائب اور اُن کی امانتِ فقر کے وارث ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ دنیا میں موجود ہوتے ہیں ا ور بندوں کو ان کے رب سے ملانے اور معرفتِ الٰہی کی تعلیم دینے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ دنیا کبھی ان سے خالی نہیں ہوتی۔ جو لوگ جعلی پیروں فقیروں کے چنگل میں پھنس کر اصل مرشدانِ کاملین سے بھی بدظن ہو بیٹھتے ہیں درحقیقت کھوٹ ان کی اپنی ہی نیت میں ہوتا ہے۔ جو مخلص ہو کر صرف اللہ کی طلب میں نکلے وہ کبھی دھوکہ نہیں کھاتا کیونکہ اللہ نے اپنی طرف آنے والے مخلصین کی رہنمائی کا خود وعدہ کیا ہے۔

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں کوشش اور جدوجہد کی ہم ان کو ضرور بالضرور اپنے صحیح راستوں پر لگا دیں گے۔
اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ جن لوگوں کی طلب ہی دنیا اور دنیاوی مال و دولت' عزت و جاہ یا اللہ کی بجائے بہشت و حور و قصور ہو' ان کو رہنما بھی تو پھر ان کی طلب کے مطابق ہی ملے گا۔ البتہ جو لوگ خالص ہو کر صرف قرب و دیدارِ الٰہی کے خواستگار ہوں گے ان کی رہنمائی اللہ تعالیٰ ضرور کسی کامل رہنما کی طرف کر دیتا ہے۔ یہ مرشد کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس طریقہ کے مطابق طالب کے باطن کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کرتا ہے جو قرآن پاک کی سورۃجمعہ میں مذکور ہے:

ترجمہ: ''وہی ہے جس نے (اللہ سے) ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) بھیجا جو ان پر آیات تلاوت کرتا ہے اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب کی(قرآن کی حقیقی باطنی) تعلیم اور حکمت عطا کرتا ہے۔''

مرشد طبیب کی مانند سالک کی روح کو روحانی بیماریوں' حسد' تکبر' بہتان' غیبت' بغض' کینہ' بدگمانی' عجب یعنی خود پسندی یا خودنمائی' ہوس' طمع لالچ' حرص وغیرہ تمام باطنی بیماریوں سے پاک کرتاہے۔ مرشدِ کامل کی مہربانی اور اسم ذات کے ذکر و تصور سے طالب باطنی پاکیزگی کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی روح روحِ قدسی کہلاتی ہے۔ روحِ قدسی ہی وہ روح ہے جو اپنی پاکیزگی کی وجہ سے اللہ کے انتہائی قریب پہنچ کر اللہ کا دیدار اور پہچان حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وہ روح ہے جو انسان کی پیدائش کے وقت اس کے اندر موجود تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا

ترجمہ:''اور ہم نے انسان کو احسن ترین صورت پر پیدا کیا''

لیکن دنیا میں آنے کے بعد یہ روح دنیاوی آلائشوں اور بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور انسان کی بے توجہی سے پژمردہ ہو کر اپنی پاکیزگی اور قوت کھو بیٹھتی ہے۔
مرشدِ کامل روح کو پاکیزہ بنانے کے لیے سالک کی تربیت اس طریقے سے کرتا ہے کہ اس کو دنیا کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔ روحِ قدسی جب اللہ کے دیدار کی لذت پالیتی ہے تو دنیا کی فانی اور وقتی لذات اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں اور انہیں پانے کی تگ و دو کرنے کی بجائے وہ اللہ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے دل سے مال و زر کی ہوس نکل جاتی ہے۔ اللہ کی رضا کے سامنے دنیا کی ہر شے ہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ وہ اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے۔ اللہ کی محبت اسے دنیا کی خواہشات سے نجات دلا کر دوسروں کی محتاجی سے خلاصی عطا کرتی ہے اور وہ اپنے رب کے سوا نہ کسی سے کوئی توقع رکھتا ہے نہ کچھ طلب کرتا ہے۔ بلکہ اس کی عاجزی و انکساری اور اللہ پر اس کا مکمل توکل اسے ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا سکھا دیتا ہے۔ وہ نہ صرف لالچ اور حرص سے نجات حاصل کرتا ہے بلکہ اپنے رب کے سوا کسی غیر کا خوف بھی دل میں نہیں رکھتا۔ یوں اسے کوئی طاقت غلط کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ قربِ خداوندی سے بڑھ کر دنیا و آخرت میں کوئی مرتبہ نہیں اس لیے دنیاوی مال و دولت' منصب و تکریم' شان و شوکت اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے اس لیے ان کے حصول کے لیے وہ کبھی غلط قدم نہیں اٹھاتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس دل میں بغض' حسد' کینہ' تکبر اور نفرت جیسی آلائشات ہوں وہاں اللہ کبھی نہیں آسکتا اس لیے لوگوں کے ساتھ بھی اپنے رویوں کو پاکیزہ بنا لیتا ہے اور کسی کے لیے اپنے دل میں میل نہیں آنے دیتا۔ یوں نہ صرف اس کا باطن درست ہوجاتا ہے بلکہ ظاہر بھی۔ معرفتِ الٰہی کے حصول کے بعد وہ حق الیقین سے اس بات کو جان لیتا ہے کہ اللہ ہر وقت اس کے پاس ہے اور اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے' چنانچہ خشیتِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور وہ خود کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: اللہ کے بندوں میں سے اہلِ علم ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔
یہاں علم سے مراد دنیاوی علم نہیں بلکہ اللہ کی معرفت کا علم ہے۔

تحریک دعوتِ فقر کی ضرورت کیوں ؟

حاصل کلام یہ ہے کہ موجودہ دور میں فقر کی راہ اختیار کرنا پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ہر طرف لالچ' کینہ' بے راہروی' افراتفری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ مقصدِ حیات کے حصول کی طرف کوئی توجہ نہ ہونے کے باعث رضائے الٰہی بھی ہمارے موافق نہیں۔ علماء کرام کی تربیت گاہیں ظاہری عبادات کو اپنے اپنے طریقے سے عوام میں پھیلا کر فرقہ پرستی کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔ دین کے ظاہری حصے پر تو بے تحاشا کام ہو رہا ہے لیکن دین کی روح یعنی معرفتِ الٰہی کے حصول پر کسی کی توجہ نہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ''تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی دعوت اور راہِ معرفت کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ''

''معروف'' سے مراد ''واقف ہونا'' ہے۔ ''امر بالمعروف'' کے معنی اللہ سے واقف ہونے یا اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم دینے کے ہیں۔ ''نہی عن المنکر اور امر بالمعروف'' ہر صاحبِ صدق مسلمان پر فرض ہے۔فقر کی راہ امر بالمعروف یا معرفت کی راہ ہے۔
راہِ فقر ہی امتِ مسلمہ کی ظاہری و باطنی درستگی کی راہ ہے۔ اس راہ سے رو گردانی کے باعث ہم دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں:

اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلم امت کو پھر سے اس فقر کو اختیار کرنے کی صلاح دیتے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ اور مسلمانوں کی اصلاح کی راہ ہے۔

تحریک دعوتِ فقر آپ کو دعوت دیتی ہے

تحریک دعوتِ فقر کے قیام کا مقصد ہی لوگوں کو فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ اسمِ ذات کے ذکر اور تصور سے راہِ فقر پر چل کر معرفتِ الٰہی حاصل کریں۔

کیونکہ

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور معرفتِ الٰہی کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری اور ان سے بلاواسطہ فیض حاصل کرنے کے لیے۔
تزکیۂ نفس کے لیے
تصفیۂ قلب کے لیے
تجلّۂ روح کے لیے
روحانی پاکیزگی اور ظاہری و باطنی درستی کے لیے
دنیا اور آخرت میں اللہ کے ہاں کامیابی کے لیے
عبادات میں قلب کی حضوری کے لیے
اللہ کے سوا غیر کی محتاجی سے نجات کے لیے
مقصدِ حیات میں کامیابی کے لیے

ذکر اسمِ اعظم ھُو، تصور اسمِ ذات اور تصورِ اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضروری ہے اور اس کے لیے راہِ فقر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

آئیں ''تحریک دعوتِ فقر'' میں شامل ہو کر راہِ فقر اختیار کریں اور ذکر و تصور اسم ذات سے فقر کی منازل تک رسائی کی جدوجہد اور کوشش کریں۔